لاہور(نیوزڈیسک) ہائیکورٹ نے خسرہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے کیس میں پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں میں موجود وینٹیلیٹر کی تفصیلات طلب کر لیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نےجوڈیشل ایکٹوازیم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ماضی میں خسرے اور ڈینگی سے سینکڑوں اموات ہوئیں۔اسپتالوں میں وینٹیلیٹر موجود نہ ہونے سے بے تحاشا اموات بھی ہوئیں۔اگر بنیادی سہولیات موجود ہوتیں تو اموات سے بچاجاسکتا تھا۔لہذا عدالت خسرے سے ہونے والی اموات کی تحقیقات کا حکم دے۔ جسٹس ملک اویس خالد نے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے اسپتالوں میں کتنے وینٹیلیٹرز موجود ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت ستائیس فروری تک ملتوی کردی












جمعہ 20 فروری 2026 