اقوامِ متحدہ رپورٹ: افغانستان طالبان کے زیرِسایہ دہشت گرد پناہ گاہیں

Calender Icon منگل 4 نومبر 2025

اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان کے کنٹرول والے علاقے دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بن چکے ہیں اور ان گروہوں کی سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوحہ امن معاہدے کے تحت افغان طالبان نے اپنی سرزمین “دہشت گردی اور سرحد پار دراندازی کے لیے استعمال نہ ہونے” کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر عملی طور پر یہ عہد نامہ نظر انداز ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود رہے اور ان کے رابطے طالبان حکومت کے ساتھ برقرار ہیں — حتیٰ کہ کئی معاملات میں پہلے سے زیادہ فعال شکل میں۔ ایمن الظواہری کی کابل میں ہلاکت بھی اس بات کی دلیل قرار دی گئی کہ القاعدہ کا موجودہ وجود برقرار ہے۔مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہ منظم انداز میں کام کر رہے ہیں اور ان کے کیمپ افغان علاقوں — خصوصاً زابل، وردک، قندھار، پکتیا اور ہلمند — میں موجود ہیں جن سے دہشت گرد بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں ایک اور تشویشناک بات یہ سامنے آئی کہ بعض جدید ہتھیار، جو امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان علاقوں میں چھوڑے گئے تھے، نور ولی محسود کے قبضے میں ہیں۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ جعفر ایکسپریس دھماکہ اور ثوب کینٹونمنٹ حملوں میں افغانستان سے چلنے والے عناصر کے ملوث ہونے کے “ناقابلِ تردید شواہد” ملے ہیں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے-