اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان میں ہنرمند افرادی قوت کی ترقی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا گیا، جہاں ملک کا پہلا نجی سرمائے سے فنڈڈ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ (PSIB) لانچ کر دیا گیا۔ اس تین سالہ پروگرام کے تحت ایک ارب روپے کے پائلٹ مرحلے کا آغاز کیا گیا ہے، جس کی وزارتِ خزانہ نے ضمانت فراہم کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تکنیکی مہارتوں کے ایک وسیع اور قابلِ توسیع تربیتی پروگرام کو عملی شکل دینا ہے۔
پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر تربیت حاصل کرنے والے فرد کے لیے قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنائے جا سکیں، جن میں سرٹیفکیشن، روزگار کا حصول اور کم از کم چھ ماہ تک ملازمت برقرار رکھنا شامل ہے۔ یہ ماڈل اسکل ڈیولپمنٹ کی فنانسنگ میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے تحت روایتی سرکاری اخراجات کے بجائے نتائج پر مبنی اور نجی شعبے کے تعاون سے سماجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
تقریبِ رونمائی کے موقع پر سرمایہ کاری اور اجرا سے متعلق دستاویزات پر دستخط بھی کیے گئے، جس میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے کے رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے اور انسانی وسائل کی حکمتِ عملی میں ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر جدید مہارتیں سکھائے بغیر ملک اپنے آبادیاتی فائدے سے بھرپور استفادہ نہیں کر سکتا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اس وژن کے مرکز میں ہے اور عالمی سطح پر بلاک چین اور دیگر ڈیجیٹل مہارتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ پاکستانی نوجوانوں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر کمیونٹی رکھتا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ حکومت کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت روایتی بجٹ پر مبنی سماجی اخراجات کے بجائے شواہد، نتائج اور احتساب پر مبنی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گزشتہ سال سوشل امپیکٹ فنانسنگ سے متعلق ایک کثیر الجہتی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے پاکستان کا پہلا سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک تیار کیا۔ اس فریم ورک میں تعلیم اور انسانی وسائل کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں صنفی مساوات، صحت، آبادی کا استحکام، ماحولیاتی لچک، غربت اور ہجرت شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے صنفی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس تجویز کا خیرمقدم کیا کہ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کے تحت 40 فیصد مستفید ہونے والی خواتین ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی شمولیت اور قیادت پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایک ارب روپے کی ضمانت نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے ایک ابتدائی قدم ہے، جس کا مقصد اس نئے ماڈل پر اعتماد پیدا کرنا ہے۔ مستقبل میں اس پروگرام کو اس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا کہ حکومتی ضمانتوں پر انحصار کم سے کم ہو اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور کیپیٹل مارکیٹ کی شمولیت ممکن بنائی جا سکے۔
تقریب سے قبل NAVTTC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عامر جان نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ کو ملک میں اسکل ڈیولپمنٹ کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ NAVTTC نے حکمرانی، مالی شفافیت، صوبائی ہم آہنگی اور صنعت سے روابط میں وسیع اصلاحات کے ذریعے مہارتوں کی تربیت کو انسانی سرمائے میں ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس پیش رفت کو بہتر پاکستان اور روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے ترقیاتی شراکت داروں، بالخصوص برطانوی دفتر خارجہ (FCDO) اور برٹش ایشین ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب سے بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود، برٹش ایشین ٹرسٹ کے نائب چیئرمین آصف رنگون والا اور پاکستان میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر میٹ کینل نے بھی خطاب کیا۔ اختتامی کلمات NAVTTC کی چیئرپرسن گلمنہ بلال احمد نے ادا کیے، جنہوں نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نوجوانوں کے لیے قابلِ پیمائش اور پائیدار نتائج فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔












منگل 30 دسمبر 2025 