اسلام آباد (نیوز ڈیسک)افغان طالبان حکومت کی ہٹ دھرمی اور نااہلی نے افغانستان کو شدید داخلی اور خارجی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس کی پالیسیوں پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ عالمی جریدے نے پاکستان کے افغان سرحدی بندش کے فیصلے کو سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بہترین حکمت عملی اور جائز اقدام قرار دیا ہے۔
عالمی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام محض کسٹمز یا تجارت کا معاملہ نہیں بلکہ قومی بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ جریدے نے نشاندہی کی ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شہید ہوئے۔
یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی راستوں کو بند کرنا اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک بہترین اور ضروری فیصلہ ہے۔ جریدے نے پاکستان کے موقف کی بھی تائید کی کہ کابل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں اصل رکاوٹ دہشت گردی کا مسئلہ ہے، نہ کہ سفارتی یا تجارتی معاملات۔
عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کو اب یہ واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گرد عناصر کو پناہ دیتے رہیں گے یا خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ترقی کے مشترکہ سفر کا حصہ بنیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران اور تاجکستان کی سلامتی اور استحکام کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں جاری غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں نے خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے، اور اگر افغان حکمرانوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے رہیں گے۔












بدھ 11 فروری 2026 