ڈھاکہ(نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی شاندار کامیابی نے خطے میں سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پارٹی کے صدر طارق رحمان نے 300 میں سے تقریباً 210 سیٹیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی، جو ملکی جمہوری نظام کے لیے خوش آئند ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنی پالیسیوں اور موقف پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرے گی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، یہ کامیابی نہ صرف بی این پی کی مضبوطی کا مظہر ہے بلکہ اس سے بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
طارق رحمان 20 نومبر 1965ء کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اور کالج کی تعلیم ڈھاکہ سے حاصل کی اور بعد میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویشن کیا۔ ان کی سیاسی اور سماجی سمجھ بوجھ کا آغاز نوجوانی سے ہی تھا، اور وہ اپنی تعلیم کے دوران ہی ملکی و عالمی امور میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے والد ضیاء الرحمان پاک فوج کے ایک ممتاز افسر رہے، جنہوں نے 1965 کی جنگ میں حصہ لیا اور اپنی بہادری کے اعتراف میں ہلال جرات سے نوازے گئے، تاہم 1971ء میں مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد وہ بنگلہ دیش میں شامل ہو گئے اور بعد میں 1977ء میں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ والدہ خالدہ ضیاء بھی دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں، 1991ء سے 1996ء اور 2001ء سے 2006ء تک، اور ملکی سیاست میں ان کا اثر طارق رحمان کی قیادت میں بھی واضح رہا ہے۔
طارق رحمان نے 1994ء میں ڈاکٹر زبیدہ رحمان سے شادی کی، جو بنگلہ سول سروس کی اہلکار ہیں، اور ان کی بیٹی ضائمہ رحمان وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ طارق رحمان نے اپنی زندگی کے ابتدائی 17 سال بیرونِ ملک گزارے، کیونکہ ان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات تھے اور ملک میں موجود ہوتے تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ تاہم وہ اس عرصے میں بھی سیاسی اور قانونی تعلیم و تربیت حاصل کرتے رہے اور اپنے مستقبل کے لیے مضبوط بنیادیں تیار کیں۔
پارٹی کی شاندار جیت کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام اور قومی ترقی کے نئے دور کے امکانات روشن ہیں۔ ان کی حکومت اقتصادی ترقی، سماجی انصاف اور عوامی فلاح کے شعبوں میں اہم اقدامات کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی، کیونکہ طارق رحمان کی سیاسی بصیرت اور تاریخی تعلقات کی بنیاد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنا سکتی ہے۔












ہفتہ 14 فروری 2026 