نئی دہلی(نیوز ڈیسک) مودی ایران حملے سے پہلے اسرائیل کیوں گیا؟ انٹرنیشنل میڈیا اور بھارتی اپوزیشن نے کڑی تنقید کردی۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مودی کے دورہ اسرائیل نے عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی سے دوچار کر دیا۔ ایران پر حملے سے عین قبل اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی مفادات کی نذر کر دیا۔
مودی نے دورہ اسرائیل میں نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی کروائی۔ سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر کے مطابق امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں۔
ریٹائرڈ امریکی کرنل ڈگلس میکگریگر کے مطابق امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔ مودی نے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں “پوسٹر بوائے” کے طور پر استعمال ہوئے۔
اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے دی وائر میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دیا۔
دی وائر نے انکشاف کیا کہ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی تھا۔
مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں انکی مدد کی-
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کا دورہ متنازع اسرائیلی حکومت کیلئے سیاسی سہارا بنا۔
بلوم برگ نے رپورٹ کیا کہ مودی کواسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا “میڈل” محض نمائشی تھا۔ مودی کا ایران حملے سے پہلے دورہ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا۔
الجزیرہ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کوغزہ میں نسل کشی کے لئے ہر طرح کی امداد دی۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق ایران کے معاملے پر مودی اپنے سیاسی مفاد کی وجہ سے خاموش رہے۔
سیاسی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مودی کا دورہ چابہار بندرگاہ کے تحفظ کیلئے پس پردہ یقین دہانیوں کے لئے تھا؟ اڈانی گروپ کی اسرائیلی حیفہ اور ایرانی چابہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری ہے۔ مودی نے اپنے دیرینہ دوست گوتم اڈانی کے کاروباری مفادات بچانے کے لئے اسرائیل کو درخواست کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اور امریکی بمباری میں چابہار بندرگاہ محفوظ رہی۔
ناقدین کا سوال، کیا قومی وقار پر کاروباری مفادات کو ترجیح دی گئی؟ کیا ایک کاروباری فائدے کے لئے مودی ایرانی قیادت کی ہلاکت پر خاموش رہے ؟
بھارتی اپوزیشن نے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی کہا۔ کانگریس، کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیر کی سیاسی لیڈرز اور سول سوسائٹی کی مودی کی منافقانہ سیاست پر کھلی تنقید کی۔
اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔ ملک کے اندر بھی عوامی سطح پر شکوک و شبہات اور تنقید میں اضافہ ہوا۔
مودی کی غلط سیاسی فیصلوں پر مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں مسلسل احتجاج کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں حکومتی عملداری ختم ہو چکی ہے۔ مودی نے ایران سے تمام فائدے اٹھا کر آنکھیں پھیر لیں۔ بھارت نے خود کو ناقابلِ اعتبار اتحادی ثابت کیا۔












بدھ 4 مارچ 2026 