مودی نے دورۂ اسرائیل میں نیتن یاہو کو ایران کیخلاف امداد کی یقین دہانی کروائی: سابق مشیرِ امریکی وزیرِ دفاع

Calender Icon بدھ 4 مارچ 2026

سابق امریکی وزیرِ دفاع کے مشیر ڈگلس میک گریگر کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دورۂ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی کروائی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈگلس میک گریگر نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، مودی نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں پوسٹر بوائے کے طور پر استعمال ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے دی وائر میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دیا ہے۔

دی وائر نے انکشاف کیا ہے کہ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی تھا۔

مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ان کی مدد کی۔

عالمی میڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مودی کے دورۂ اسرائیل نے عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی سے دوچار کر دیا، ایران پر حملے سے عین قبل اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ نے سنگین سوالات اٹھا دیے، مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی مفادات کی نذر کر دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے میڈیا نے کہا ہے کہ مودی کا دورہ متنازع اسرائیلی حکومت کے لیے سیاسی سہارا بنا، مودی کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ’میڈل‘ محض نمائشی تھا۔

خبر ایجنسی کے مطابق مودی کا ایران پر حملے سے پہلے دورۂ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق بھارت نے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے لیے ہر طرح کی امداد دی جبکہ ترک میڈیا نے کہا کہ ایران کے معاملے پر مودی اپنے سیاسی مفاد کی وجہ سے خاموش رہے۔

اس حوالے سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کیا مودی کا دورہ چاہ بہار بندرگاہ کے تحفظ کے لیے پسِ پردہ یقین دہانیوں کے لیے تھا؟ اڈانی گروپ کی اسرائیلی حیفہ اور ایرانی چابہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری ہے، مودی نے اپنے دوست گوتم اڈانی کے کاروباری مفادات بچانے کے لیے اسرائیل کو درخواست کی۔