بھارتی گلوکار پالاش سین نے کہا ہے کہ اریجیت سنگھ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کی طرح گانے کی کوشش کیا کرتے تھے، عاطف اسلم کے اثر نے بھارتی گلوکاروں کو متاثر کیا تھا۔
پالاش سین نے بھارت میں عاطف اسلم کے دیرپا اثرات کو سراہتے ہوئے کہا ان کی منفرد آواز اور انداز نے مرد گلوکاروں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔
حال ہی میں ایک بھارتی میڈیا ادارے کے ساتھ انٹرویو میں 60 سالہ گلوکار نے کہا کہ عاطف کے بعد آنے والے بہت سے گلوکاروں نے ان کے انداز گائیکی کو اپنانے کی کوشش کی۔
اگر آپ بغور دیکھیں تو تقریباً ہر گلوکار نے عاطف اسلم کی طرح گانے کی کوشش کی، ارجیت سنگھ بھی ایک زمانے میں عاطف کے انداز میں گانے کی کوشش کرتے تھے، بعد میں انہوں نے اپنا الگ انداز اپنایا، موسیقی کی دنیا میں ایسا اکثر ہوتا ہے جب کوئی طاقتور آواز مقبول گائیکی کے انداز کو بدل دیتی ہے۔
پالاش سین نے کہا اسی طرح ایک زمانہ میں کمار سانو اور ابھجیت جیسے گلوکاروں پر محمد رفیع اور کشور کمار جیسے لیجنڈز کا اثر تھا۔ بااثر گلوکار ہمیشہ گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور بہت سے لوگ ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ عاطف اسلم پاکستان سے ابھرنے والے سب سے کامیاب گلوکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے بھارت اور پورے جنوبی ایشیا میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے سن 2000 کی دہائی کے آغاز میں بینڈ جال کے ساتھ گایا ہوا گانا عادت سے شہرت حاصل کی۔
بالی ووڈ میں وہ اس وقت مقبول ہوئے جب انہوں نے فلم عجب پریم کی غضب کہانی کے گانے تیرا ہونے لگا ہوں اور تو جانے نہ، فلم ریس کا پہلی نظر میں، فلم رمیا وستویا کا جینے لگا ہوں اور فلم ٹائیگر زندہ ہے کا دل دیاں گلاں گایا۔












پیر 9 مارچ 2026 