اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر افغان طالبان رجیم کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ افغان سیاسی رہنما اور مبصرین بھی اس معاملے پر کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
افغان سیاستدان اور نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ کے رہنمااحمد مسعود نے افغان طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں موجودہ صورتحال براہ راست طالبان کے برے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج افغانستان اپنے عوام کے لیے جہنم جبکہ دہشت گرد گروہوں کے لیے جنت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق جس طرح ماضی میں القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ دی گئی تھی، اسی طرز کی صورتحال دوبارہ پیدا ہو رہی ہے۔
احمد مسعود کا کہنا تھا کہ افغانستان میں صرف تحریک طالبان پاکستان ہی نہیں بلکہ بیس سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پر مسلط طالبان رجیم کے خلاف افغان عوام میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اور یہ نفرت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے بطور اڈہ استعمال کیے جانے کے خلاف افغان عوام میں طالبان رجیم کے خلاف سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان عوام طالبان کی آمریت اور دہشت گردی سے جڑی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ افغانستان میں سرگرم مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی نے ملک کو دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ مقام بنا دیا ہے جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔












پیر 9 مارچ 2026 