تیجس طیاروں کے حادثات، “میڈ اِن انڈیا” دفاعی منصوبے کی ناکامی بے نقاب

Calender Icon پیر 16 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کے مقامی طور پر تیار کردہ جنگی طیارے HAL Tejas کے مسلسل حادثات نے بھارت کے دفاعی منصوبوں اور نام نہاد “میڈ اِن انڈیا” حکمت عملی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے BBC کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کے حادثات میں اضافے نے بھارت کے بڑی فوجی طاقت بننے کے دعووں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7 فروری 2026 کو تیجس طیارے کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے خاموشی سے تقریباً تیس طیاروں پر مشتمل پورے بیڑے کو گراؤنڈ کر دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیجس پروگرام کا آغاز 1981 میں ہوا جبکہ اس کی پہلی آزمائشی پرواز 2001 میں ہوئی تھی، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت اس طیارے کے لیے مکمل طور پر مقامی انجن تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

بی بی سی کے مطابق تیجس طیاروں کے انجن، ایویونکس، ریڈار نظام اور کئی ہتھیار بیرون ملک سے درآمد کیے گئے ہیں جن میں United States اور Israel شامل ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق کسی جنگی طیارے کے پورے بیڑے کو گراؤنڈ کرنا عام طور پر سنگین تکنیکی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس تاحال پانچویں نسل کا جنگی طیارہ موجود نہیں۔ اگرچہ بھارت نے روس کے جدید طیارے Sukhoi Su-57 میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اس معاملے میں امریکہ کی ناراضی کا خدشہ بھی موجود ہے۔

اسی دوران 6 مارچ کو روسی ساختہ Sukhoi Su-30MKI طیارہ بھی آسام کے شہر جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس نے بھارتی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عسکری ضروریات کے تحت بھارتی فضائیہ کو کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، تاہم اس وقت اسکواڈرن کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس طیاروں کی گراؤنڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور دیگر آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت میں موجود ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تیجس سمیت جنگی طیاروں کے مسلسل حادثات صرف کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی علامت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارتی فضائیہ اپنی مطلوبہ دفاعی صلاحیت حاصل کرنے سے ابھی کئی دہائیوں دور دکھائی دیتی ہے۔