مذاکرات کاری سے سخت گیر شخصیت تک، شہید علی لاریجانی کی زندگی پر ایک نظر

Calender Icon بدھ 18 مارچ 2026

تہران(نیوز ڈیسک) ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی شہید اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ایرانی قیادت میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں، یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ واحد شخص تھے جو مغربی قوتوں کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔
شہید علی لاریجانی ایران کے سکیورٹی چیف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، وہ سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کے مرحلے میں فیصلہ سازوں میں شامل تھے، حالیہ عرصے میں وہ امریکا کے ساتھ یورینیم افزودگی پر مذاکرات سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کر رہے تھے۔

علی لاریجانی 1957ء میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے، 1961ء میں خاندان کے ساتھ ایران واپس آگئے، ریاضی کی تعلیم حاصل کی، تہران یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی، ان کے والد مذہبی عالم تھے، علی لاریجانی کے 4 بھائی ہیں اور سب نے ایرانی ریاستی اداروں میں اہم عہدے سنبھالے۔

علی لاریجانی نے 1980ء کی دہائی کے اوائل میں سرکاری ایرانی چینل میں مختصر مدت کیلئے نگران کی حیثیت سے کام کیا، ایرانی پاسداران انقلاب میں بھی شمولیت اختیار کی، ایران عراق جنگ میں خدمات سرانجام دیں۔

1992ء میں محمد خاتمی کی جگہ وزیر ثقافت و اسلامی رہنمائی کا عہدہ سنبھالا 1994ء میں سرکاری ایرانی نشریاتی ادارے کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، 1996ء میں خامنہ ای نے 3 سال کیلئے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا 1997ء میں مصلحت نظام کونسل کے رکن بنے، 1999 میں دوبارہ سپریم لیڈر کے نمائندے کے طور پر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں شامل ہوئے۔

2002ء میں دوبارہ مصلحت نظام کونسل کا رکن بنایا گیا، 2004ء میں سرکاری ایرانی چینل کے ڈائریکٹر کے طور پر واپس آئے، 2005ء میں جوہری پروگرام پر یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کا انچارج مقرر کیا گیا، 2008ء میں پارلیمنٹ کے رکن بنے اور سپیکر منتخب ہوئے، کئی مرتبہ اس عہدے پر فائز رہے، وہ 2020ء تک سپیکر رہے۔

علی لاریجانی کی مصلحت نظام کونسل کی رکنیت کی کئی مرتبہ تجدید ہوئی، 2020ء میں خامنہ ای نے انہیں اپنا مشیر مقرر کیا، انہوں نے 2021ء میں صدارتی انتخاب کیلئے کاغذات جمع کروائے لیکن نگہبان کونسل نے مسترد کر دیے، 2024ء میں نگہبان کونسل نے دوسری بار ان کی صدارتی نامزدگی مسترد کی، اگست 2025ء میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ اور کونسل میں سپریم لیڈر کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔

شہید علی لاریجانی نے ایران کی طرف سے جوہری معاملات پر مذاکرات کی قیادت کی، غزہ اور لبنان کی حالیہ جنگوں کے دوران عالمی سطح پر نمایاں کردار سامنے آیا، جنگ کے دوران عراق، لبنان، شام اور خلیج کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

فروری میں امریکی انتظامیہ نے علی لاریجانی پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کیں، خامنہ ای کی شہادت کے بعد لاریجانی کے بیانات سخت ہو گئے، اور انہوں نے کہا تھا کہ اب ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا، طویل مدت کی جنگ کیلئے تیار ہیں۔