تہران (نیوزڈیسک)ایرانی دارالحکومت کے انقلاب اسکوائر پر سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی اور بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، شرکاء کی جانب سے اللّٰہ اکبر کے نعرے لگائے گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنازے میں حکومتی عہدیداروں، فوجی قیادت اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
علی ریجانی گزشتہ روز تہران میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے بیٹے سمیت شہید ہوگئے تھے۔ اسی طرح بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی تہران پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے فضائی حملے میں نشانہ بنے۔
ایرانی بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ بھی ادا کردی گئی، جو جنگی جہاز پر تعینات تھے۔ یہ جہاز 4 مارچ کو سری لنکا کے ساحل کے قریب مبینہ طور پر امریکی بحریہ کے ٹارپیڈو حملے کا نشانہ بنا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللّٰہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔
اس کارروائی میں ایران بھر میں فوجی اور شہری مقامات پر فضائی حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل اور امریکا کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے مقبوضہ علاقوں اور خطے میں قائم فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔دوسری جانب علی لاریجانی پر حملے کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر نئے میزائلوں سے شدید حملے کیے، جس سے تل ابیب لرز اٹھا، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں میں آگ بھڑک اُٹھی۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں 200 اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے، ایران کی جانب سے پہلی بار حاج قاسم میزائلوں سے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں 2 افرادہلاک اور متعددزخمی ہوئے۔












بدھ 18 مارچ 2026 