بلوچستان میں خواتین کا استحصال اور بی وائے سی کا کردار

Calender Icon جمعرات 19 مارچ 2026

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بی وائے سی کے قیام سے قبل بلوچستان میں آج تک کسی خاتون نے خودکش دھماکہ نہیں کیا تھا لیکن 2020 میں بی وائی سی بنی اور 2022 میں اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کردیا ۔پھر سمعیہ قلندرانی ، ماہکان بلوچ ، ماہل بلوچ ، زرینہ رفیق بلوچ ، ہوا بلوچ ، آسیہ مینگل اور کئی خودکش دھماکے کرچکی ہیں ۔

درجنوں خواتین اس وقت بی ایل اے کے کیمپس میں موجود ہیں ۔ جن کی ٹریننگ کی ویڈیوز خود بی ایل اے جاری کرتی ہے ۔ ‏ بی وائی سی سے قبل بلوچستان کی تاریخ میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ حالانکہ شورش 1947 سے چلی آرہی ہے ۔

‏دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں کہ بی وائی سی بظاہر لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہے، لیکن پسِ پردہ یہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے لیے ایک “بھرتی مرکز” (Recruitment Nursery) کا کام کر رہی ہے۔

‏ بی وائی سی کے پلیٹ فارم سے ریاستِ پاکستان کو “قابض، ظالم اور نوآبادیاتی قوت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ نوجوان خواتین اور کم عمر بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

‏ صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر میں مستقل طور پر “بلوچ راج” اور ریاست کے خلاف مزاحمت کا جو درس دیا جاتا ہے، وہ براہِ راست عسکریت پسندی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

‏یہ بات اب ریکارڈ پر موجود ہے کہ جن خواتین نے خودکش حملے کیے، ان کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائی سی کے احتجاجی کیمپوں یا ان کے بیانیے سے تعلق رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بی وائی سی وہ خام مال فراہم کرتی ہے جسے بی ایل اے کا ‘مجید بریگیڈ’ بارود میں تبدیل کر دیتا ہے۔