ایران نے اسرائیل پر کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائلوں کی بارش کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد علاقے نشانہ بنے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک بار پھر میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
ایران نے رات گئے اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے دوران کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائل داغے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ میزائل مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کی سمت فائر کیے گئے، جن میں سے متعدد رہائشی علاقوں میں آ گرے، نتیجتاً گاڑیوں اور مکانات کو نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق حملوں میں کلسٹر بموں سے لیس میزائل بھی استعمال کیے گئے، جب کہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک بار پھر ان میزائلوں کو مؤثر طور پر روکنے میں ناکام رہا۔
گزشتہ روز اسرائیلی ایٹمی مرکز ڈیمونا اور عراد پر ہونے والے میزائل حملوں میں دس افراد ہلاک اور ایک سو اسی زخمی ہوئے تھے، جب کہ متعدد عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
انٹرنیشنل اٹامک توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی علاقے ڈیمونا کے قریب میزائل حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری کے شواہد نہیں ملے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ واقعے کی صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اب تک اسرائیل کے حساس جوہری مرکز کو کسی نقصان پہنچنے کے شواہد موصول نہیں ہوئے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جوہری تنصیبات کے اطراف میں زیادہ سے زیادہ فوجی احتیاط برتنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی جوہری تحفظ کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں امریکا اور اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز مکمل بند کردیں گے۔












پیر 23 مارچ 2026 