ایم کیو ایم پر پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر کی سخت تنقید، سنگین الزامات عائد

Calender Icon بدھ 25 مارچ 2026

کراچی: (نیوزڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کی حالیہ پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کا بیانیہ سیاسی کمزوری اور عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں شراکت دار ہونے کے باوجود سندھ حکومت پر تنقید کرنا ایم کیو ایم کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نے کہا کہ بلدیاتی نظام اور آرٹیکل 140-اے کے نام پر دراصل پرانے سیاسی نعروں کو زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان ماضی کی ناکام پالیسیوں کو دوبارہ دہرانا چاہتی ہے، تاہم عوام اب ایسی سیاست سے آگاہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی عوامی مقبولیت میں واضح کمی آ چکی ہے اور کراچی کے شہری اب کھوکھلے نعروں سے متاثر نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق سندھ کی وحدت اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ذوالفقار علی شاہ نے مزید کہا کہ صوبائی خودمختاری اور 18ویں آئینی ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایم کیو ایم اقتدار میں تھی تو اس نے عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کراچی کی ترقی کے لیے خاطر خواہ وسائل فراہم کیے، جبکہ مخالفین صرف تنقید تک محدود رہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل جاری ہے اور آئین کی من مانی تشریح کسی صورت قابل قبول نہیں۔ صوبائی وزیر نے خبردار کیا کہ سندھ کی تقسیم یا اس کے حقوق پر کسی بھی قسم کی قدغن لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی، اور ایسے اقدامات کو ملکی مفاد کے خلاف سمجھا جائے گا۔