بھارتی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے، جسے ناقدین متنازع قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس، بشمول انڈیا ٹوڈے، کے مطابق عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام یا عیسائیت اختیار کرتا ہے تو اسے شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ حاصل نہیں رہے گا۔ موجودہ بھارتی قانون کے تحت یہ درجہ صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے کیس کے تناظر میں سامنے آیا جس میں ایک شہری نے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد مبینہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ناقدین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مذہب تبدیل کرنے والے افراد کو سرکاری ملازمتوں، تعلیمی مواقع اور سیاسی نمائندگی جیسی سہولیات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کے مطابق بنیادی شہری حقوق کو مذہب سے جوڑنا آرٹیکل 14 اور آرٹیکل 15 جیسے آئینی اصولوں سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے اس فیصلے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس پر بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ: مذہب کی تبدیلی پر مراعات ختم
جمعرات 26 مارچ 2026












