خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، اور اسی تناظر میں امریکا نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے دو اعلیٰ عہدیداروں کو عارضی طور پر اپنی ٹارگٹ لسٹ سے ہٹا دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے نام 4 سے 5 دن کے لیے اس فہرست سے نکالے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ جنگ بندی کے امکانات کو تقویت دی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ترکی، پاکستان اور مصر سمیت مختلف ممالک ثالثی کے ذریعے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پہلے جنگ بندی ممکن ہو اور پھر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شرائط پر اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
جنگ بندی کی جانب پیش رفت؟ امریکا کا اہم اقدام سامنے آ گیا
جمعرات 26 مارچ 2026












