وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری میں شادی کے حوالے سے اہم رائے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نکاح صرف فوجداری سزا کے دائرے میں آتا ہے، اور کم عمری کی شادی کے سبب نکاح خود بخود ختم نہیں ہوتا۔
عدالت نے کہا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمر لڑکی یا لڑکے کے ساتھ نکاح پر سزا ہو سکتی ہے، لیکن اس میں نکاح کی منسوخی کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلمان مرد اہل کتاب خواتین کے ساتھ شرعی نکاح کر سکتے ہیں، اور اس میں اسلام قبول کرنے والے فرد کے نکاح کو درست تسلیم کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ماریہ بی بی کے کیس میں سامنے آیا، جس نے لاہور میں شہریار نامی لڑکے سے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔ ماریہ کے والد نے کم عمر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے حبس بے جا کی درخواستیں دائر کیں، لیکن عدالت نے انہیں مسترد کر دیا۔ عدالت نے ماریہ کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ اس نے بغیر کسی دباؤ کے شادی کی اور اسے اغوا نہیں کیا گیا۔
عدالت نے مزید وضاحت کی کہ آئینی تشریح کا حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے احکام کی پابند ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں تو آئینی عدالت ان پر عمل کرنے کی پابند نہیں۔
فیصلے کے دوران عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ والد کے بیانات میں تضاد موجود ہے اور NADRA کے ریکارڈ کے مطابق ماریہ اور اس کی چھوٹی بہن کی عمر میں صرف چند ماہ کا فرق ہے، جو دستاویزات پر شک سے بالاتر ہے۔
یہ فیصلہ کم عمری میں شادی کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے اور نکاح کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانونی سزاؤں کے دائرہ کار کو واضح کرتا ہے۔
کم عمری میں شادی: وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
جمعرات 26 مارچ 2026












