اسرائیل میں ایک سیاسی شخصیت کی جانب سے یونان کے غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنانے کی تجویز نے میڈیا اور عوامی مباحثے کو جنم دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، سیاستدان اوری اسٹینر نے کہا کہ ایران کے ہزاروں بیلسٹک میزائل اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کی حفاظت کے لیے متبادل حفاظتی منصوبہ ضروری ہے، جسے انہوں نے ’متبادل آئرن ڈوم‘ قرار دیا۔ اسٹینر نے تقریباً 40 غیر آباد یونانی جزائر خریدنے کی تجویز پیش کی تاکہ ممکنہ جنگی صورتحال میں شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔
تاہم اس منصوبے کو جلد ہی مسترد کر دیا گیا۔ جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ممبران نے کہا کہ یہ تجویز ادارے کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہے اور ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے باہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں۔
خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اس قسم کی غیر معمولی تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز اپنی نوعیت کے باعث توجہ حاصل کرنے کے باوجود عملی طور پر قابل عمل نہیں سمجھی گئی۔
ایرانی میزائل خطرے کے پیشِ نظر اسرائیلی شہریوں کے لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز
جمعرات 26 مارچ 2026












