ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن واجبات میں تاخیر، میئر کراچی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت

Calender Icon جمعرات 26 مارچ 2026

سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن اور واجبات کی عدم ادائیگی کے حوالے سے میئر کراچی اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس دوران سرکاری وکیل عبدالجلیل زبیدی نے عدالت میں تفصیلی جواب جمع کروا دیا۔
سرکاری وکیل کے مطابق میونسپل کمشنر کراچی نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات کو خط لکھا، جبکہ محکمہ خزانہ نے اکتوبر تا دسمبر کے پینشن واجبات کے لیے 20 کروڑ روپے فراہم کیے تھے۔ مزید واجبات کے لیے تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ روپے درکار ہیں۔ عدالت نے تفصیلی جواب جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، سرکاری گاڑیوں کے محدود استعمال اور دو دن کی چھٹی کے باعث میڈیکل اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ کیا سندھ میں بھی مالی بحران ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے مئی 2025 میں پینشن فوائد کی ادائیگی کا حکم دیا تھا اور فنانس ڈپارٹمنٹ کو فنڈز کی کمی پوری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سیکریٹری بلدیات کو ریٹائرڈ اور آئندہ برس ریٹائر ہونے والے ملازمین کی فہرست میئر کراچی کو فراہم کرنی تھی، جبکہ کے ایم سی کو دو سال تک پینشن کی ادائیگی جاری رکھنی تھی۔
تاہم عدالتی احکامات کے باوجود پینشن کی ادائیگی مکمل طور پر رکی ہوئی ہے، جس سے ریٹائرڈ ملازمین شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سیکریٹری بلدیات، میئر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی اور دیگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے درخواست پر تین ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔