فیکٹ چیک: صحافیوں کے لیے سرکاری امتحانات کا دعویٰ جھوٹا ہے

Calender Icon جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستانی سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک وائرل دعویٰ گردش کر رہا ہے جس میں کہا گیا کہ حکومت نے میڈیا میں “غیر صحافیوں” کی موجودگی کے سبب صحافیوں کے لیے تین مراحل پر مشتمل امتحانات کا اعلان کیا ہے۔ اس دعوے کے مطابق پہلے مرحلے میں اردو گرامر، املا اور مضمون نویسی کے ٹیسٹ شامل ہیں، دوسرے مرحلے میں صحافت کے بنیادی اجزاء جیسے خبر نگاری اور رپورٹ نویسی پر توجہ دی گئی ہے اور تیسرے مرحلے میں تحقیقاتی صحافت اور نفسیاتی آگاہی کو پرکھا جائے گا۔ اس پوسٹ کو ایکس پر 14 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا، 475 لائکس اور 124 مرتبہ شیئر کیا گیا جبکہ اسی طرح کے دعوے انسٹاگرام اور فیس بک پر بھی سامنے آئے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایسی کوئی پالیسی یا اعلان نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے میڈیا کوآرڈینیٹر تصور عرفات چوہدری نے واضح کیا کہ نہ وزارت اطلاعات اور نہ ہی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایسا کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی پروگرام زیر غور ہے۔
اسی طرح پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے بھی اس دعوے کی تردید کی جبکہ اسلام آباد پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے اسے “100 فیصد جعلی” قرار دیا اور کہا کہ یہ کسی اخباری فارمیٹ میں نہیں ہے بلکہ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے بھی تصدیق کی کہ یہ محض سوشل میڈیا کی افواہ ہے جو ہر دو سال بعد دوبارہ گردش کرتی ہے اور پشاور پریس کلب کے صدر محمد ریاض نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
نتیجتاً صحافیوں کے لیے سرکاری امتحانات کے انعقاد کے وائرل دعوے کا کوئی جواز نہیں ہے اور یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ نہ حکومت، نہ سرکاری ادارے اور نہ ہی صحافتی تنظیموں نے ایسی کوئی پالیسی متعارف کرائی ہے اور صارفین کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔