کشمیری قیادت کو سزائیں قابلِ مذمت، بھارتی عدالتیں غیر جانبدار نہیں: امیر مقام

Calender Icon جمعرات 26 مارچ 2026

اسلام آباد(نیوزدیسک) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام

نے کہا ہے کہ بھارتی عدالتیں کشمیریوں کے خلاف مذموم مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور حالیہ فیصلے اس کی واضح مثال ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دی جا رہی ہیں، تاہم بھارتی مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبۂ آزادی کمزور نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی عدالت نے آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ حکومت پاکستان ان فیصلوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور انہیں مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی عدلیہ آزادانہ کردار ادا نہیں کر رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسیہ اندرابی کے خلاف کوئی ٹھوس مقدمہ نہیں بلکہ انہیں حق اور آزادی کی بات کرنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے، مگر یہ اس کی غلط فہمی ہے کہ وہ اس طرح کشمیریوں کی آواز دبا سکے گا۔ ان کے مطابق ان خواتین کو حق خودارادیت کی جدوجہد کی سزا دی گئی ہے، لیکن ایسے ہتھکنڈے اس تحریک کو ختم نہیں کر سکتے۔