پاسداران انقلاب نے 3 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے واپس بھیج دیا

Calender Icon جمعہ 27 مارچ 2026

تہران(ویب ڈیسک): ایران کی نیم فوجی فورس پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے تین بحری جہازوں کو وارننگ دے کر آبنائے ہرمز سے واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے مطابق آبنائے ہرمز کو دشمن ممالک کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے، جبکہ کھاد سمیت دیگر اہم اشیا کی سپلائی بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی اور بحران کو جنم دیا ہے۔
یہ آبی راستہ محض 24 میل چوڑا ہے اور زیادہ تر بحری جہاز مخصوص تنگ راستوں سے گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کے باعث متبادل راستہ اختیار کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 1000 میل طویل ساحلی پٹی موجود ہے، جہاں سے اینٹی شپ میزائلوں کے ذریعے دور سے بھی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ماضی میں کم از کم 19 جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال کے باعث خلیجی پانیوں میں ہزاروں بحری جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں اور عالمی شپنگ کمپنیاں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس راستے کے استعمال سے گریز کر رہی ہیں۔