امریکا کو جنگ بند کرنے پر قائل کرناایرانی ذمہ داری ہے، ٹرمپ

Calender Icon جمعہ 27 مارچ 2026

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ ایران کی ذمے داری ہے کہ وہ انہیں جنگ بند کرنے پر قائل کرے، مجھے فکر نہیں ہے کہ ڈیل ہوتی ہے یا نہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جنگ میں نمایاں شدت لانے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، خاص طور پر اس صورت میں اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اب تک جاری فوجی مہم زیادہ تر فضائی حملوں تک محدود رہی ہے، تاہم اگلے مرحلے میں پینٹاگون نے ایسے منصوبے تیار کیے ہیں جن کے تحت ایران کے اندر اہم اہداف پر قبضے کے لیے زمینی افواج تعینات کی جا سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں حساس فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں زیرِ زمین موجود افزودہ یورینیم کو حاصل کرنے یا تباہ کرنے کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جسے ممکنہ طور پر جنگ میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
اسی دوران خلیج میں تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اہم اقدامات زیرِ غور ہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکی حکام خارگ جزیرے پر قبضے یا ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملوں جیسے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے قریب دیگر اہم جزیروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں تاکہ ایران کی جانب سے جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کیا جا سکے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ان تمام آپشنز میں بھاری جانی نقصان کا خطرہ موجود ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان اقدامات سے جنگ کا فوری خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
امریکی حکام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر زمینی افواج کی تعیناتی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر امریکہ نے زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ تنازع ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔
سی این این کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کو مذاکرات کی واشنگٹن کی نیت پر شک ہے۔