طالبان دور میں اقلیتوں پر زندگی تنگ، مسیحی برادری شدید خوف کا شکار

Calender Icon ہفتہ 28 مارچ 2026

افغان طالبان کے دورِ حکومت میں افغانستان کی اقلیتیں، خصوصاً مسیحی برادری، شدید مشکلات اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مسیحی شہری خوف اور دباؤ کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک برطانوی جریدے چرچ ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں اقلیتوں کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسیحی برادری کے لیے مذہبی آزادی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں کوئی کھلا چرچ موجود نہیں، اور سرکاری سطح پر مسیحیوں کو بطور اقلیت تسلیم بھی نہیں کیا جاتا۔
خوف کے باعث کئی مسیحی شہری دوہری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں—وہ بظاہر عام شہریوں کی طرح رہتے ہیں، مگر بند کمروں میں چھپ کر عبادات کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں سرکاری ملازمتوں، صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق تک بھی محدود رسائی حاصل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران سکھ اور ہندو برادری کے کئی افراد افغانستان چھوڑ چکے ہیں، جبکہ دیگر اقلیتوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ سیاسی اور سماجی حالات اقلیتوں کے لیے سازگار نہیں رہے، اور خاص طور پر مسیحی برادری شدید دباؤ، عدم تحفظ اور سماجی پابندیوں کے تحت زندگی گزار رہی ہے، جس کے باعث افغانستان عالمی سطح پر ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔