فیکٹ چیک: قاسم خان نے جنیوا میں پاکستان کے جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس کی معطلی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا

Calender Icon ہفتہ 28 مارچ 2026

حال ہی میں آن لائن کئی پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹے، قاسم خان نے 25 مارچ کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان کے جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ یہ دعویٰ نہ صرف سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا بلکہ پاکستان کے وزیرِ دفاع اور حکمران جماعت کی رکنِ پارلیمنٹ نے بھی اس پر ردعمل دیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔
قاسم خان نے جنیوا میں دو تقریبات سے خطاب کیا، تاہم کسی بھی تقریب میں انہوں نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی معطلی یا منسوخی کا مطالبہ نہیں کیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختصر ویڈیو کو اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا، جس سے غلط تاثر پیدا ہوا۔
ان کے خطاب کا اصل سیاق و سباق:
قاسم خان نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے عام مباحثے میں اپنی تقریر میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بالخصوص اپنے والد کی قید اور غیر انسانی حالات پر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو تقریباً تین سال سے زیادہ عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت انسانی حقوق کے معاہدوں کی پاسداری کا عہد کیا ہے اور ان کا مقصد انہی معاہدوں کے تحت والد کے ساتھ پیش آنے والے مظالم کی نشاندہی کرنا تھا، نہ کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی معطلی کا مطالبہ۔
قاسم خان نے اپنے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بھی واضح کیا کہ وہ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی برقراری کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا خطاب صرف انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں تھا۔
فیصلہ:
قاسم خان نے جنیوا میں کسی بھی اجلاس یا ذیلی تقریب میں پاکستان کے جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس کی معطلی یا منسوخی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، اور آن لائن گردش کرنے والے دعوے گمراہ کن اور غلط ہیں۔
یہ فیکٹ چیک اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور اصل تقریر کا مقصد صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔