افغان طالبان رجیم کی خواتین مخالف پالیسیاں، انسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج

Calender Icon اتوار 29 مارچ 2026

اسلام آباد (طارق محمود سمیر)افغانستان میں طالبان کے حکومتی اقدامات کے باعث خواتین کے بنیادی حقوق شدید خطرے میں ہیں۔ طالبان کی جابرانہ پالیسیوں نے خواتین سے تعلیم، معاشرتی شرکت اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع چھین لیے ہیں۔
افغان میڈیا ہشت صبح کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم سن آف فریڈم موومنٹ نے لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کو خواتین کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ افغانستان میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن لاکھوں لڑکیاں اب بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ “ایسا معاشرہ جس کی آدھی آبادی تعلیم سے محروم ہو، کبھی استحکام، ترقی اور انصاف حاصل نہیں کر سکتا۔”
خواتین کی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی طالبان کی منظم اور انتہا پسندانہ پالیسی کا حصہ ہے۔ عالمی سطح پر مسلسل تنقید کے باوجود طالبان رجیم اپنی اس پالیسی پر ڈٹ کر قائم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں افغانستان کے تعلیمی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں۔ غاصب رجیم خواتین کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کر کے معاشرے پر اپنے انتہا پسندانہ نظریاتی تسلط کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔