اسلام آباد(نیوزڈیسک)ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے متعلق معاملہ اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اس حوالے سے وزارت خزانہ کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ صوبوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے پہلے تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کی رائے لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس دوران یہ بھی طے کیا جائے گا کہ لاک ڈاؤن کب اور کتنے عرصے کے لیے نافذ کیا جائے، تاکہ عوام اور کاروباری سرگرمیوں پر اس کے اثرات کو متوازن رکھا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ فیصلے میں صنعتی اور سروس سیکٹر کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کو محدود کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
اس کے علاوہ اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو قومی شاہراہوں پر عام ٹریفک کی آمدورفت بھی محدود یا بند کی جا سکتی ہے۔ حکام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے عوامی سہولت، معیشت اور روزمرہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے۔












اتوار 29 مارچ 2026 