نجی کمپنیاں 3500 روپے من کےحساب سےگندم خرید ینگی، وفاقی حکومت

Calender Icon اتوار 29 مارچ 2026

وفاقی حکومت نے رواں سال گندم کی خریداری کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اس عمل کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ملک بھر میں نجی کمپنیاں 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدیں گی، جبکہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے پیش نظر وفاقی حکومت براہ راست گندم خریداری کے عمل سے الگ ہو گئی ہے، اور اس سال اسٹریٹیجک ذخائر کی خریداری بھی نجی شعبہ ہی کرے گا۔ تاہم حکومت گوداموں میں گندم کے ذخیرے کی دیکھ بھال اور مینٹیننس کے اخراجات خود برداشت کرے گی تاکہ سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ خریداری کے عمل میں شفافیت اور استعداد کو یقینی بنانے کے لیے صرف وہی کمپنیاں شامل کی گئی ہیں جن کی ایکویٹی ویلیو ایک ارب روپے یا اس سے زائد ہے، اور اسی معیار پر پورا اترنے والی تقریباً 20 کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق نجی کمپنیاں وفاق کے لیے 15 لاکھ میٹرک ٹن، پنجاب کے لیے 30 لاکھ میٹرک ٹن جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لیے مجموعی طور پر 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدیں گی۔ دوسری جانب سندھ حکومت بدستور پرانے طریقہ کار کے تحت تقریباً 12 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدے گی۔

اس نئے نظام کو حکومت کی جانب سے ایک اہم معاشی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اخراجات میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور گندم کی خریداری کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، جبکہ کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔