سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ہونے والے ایرانی حملے میں امریکی فضائیہ کے ’ای تھری سینٹری‘ طیارے کی تباہی نے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیتوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس جدید ترین طیارے کی دم ٹوٹ چکی ہے اور اس کا خاص گھومنے والا ریڈار ڈوم زمین پر گرا ہوا ہے۔
یہ طیارہ جسے ’ایواکس‘ بھی کہا جاتا ہے، دہائیوں سے امریکی جنگی حکمتِ عملی کا ایک لازمی حصہ رہا ہے اور اس کا کام میلوں دور سے دشمن کے خطرات کی نشاندہی کرنا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے فوجی تجزیہ کار اور امریکی فضائیہ کے سابق کرنل سیڈرک لیٹن، جو خود اس طیارے پر پروازیں کر چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایواکس طیارے کا ضیاع امریکی نگرانی کی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
کرنل سیڈرک کے مطابق یہ نقصان امریکی فضائیہ کی اپنے جنگی طیاروں کو کنٹرول کرنے، انہیں اہداف کی طرف بھیجنے یا دشمن کے طیاروں اور میزائلوں سے بچانے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
ایواکس طیارہ زمین سے لے کر فضا کی بالائی تہوں تک ایک لاکھ بیس ہزار مربع میل کے علاقے پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بیک وقت چھ سو اہداف بشمول طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور یہاں تک کہ میدانِ جنگ میں موجود ٹینکوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔
اس طیارے پر موجود عملہ یہ تمام معلومات فوری طور پر سمندر میں موجود بحری جہازوں یا پینٹاگون کو منتقل کرتا ہے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
رائل آسٹریلین ایئر فورس کے سابق افسر اور گرفتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے فیلو پیٹر لیٹن کے مطابق یہ فضائی ریڈار دشمن کے خطرات کو بھانپنے کے لیے کافی وقت فراہم کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ایران جنگ میں یہ طیارہ دو سو میل دور سے آنے والے ایرانی شاہد ڈرون کو زمینی ریڈار کے مقابلے میں پچاس منٹ پہلے دیکھ سکتا ہے۔
پیٹر لیٹن کے مطابق، چونکہ یہ طیارہ کہیں بھی حرکت کر سکتا ہے، اس لیے یہ ساکن زمینی ریڈاروں کے مقابلے میں دشمن کے لیے ایک مشکل ہدف ہوتا ہے۔
دوسری جانب سابق کرنل سیڈرک لیٹن نے اس طیارے کی حفاظت میں ناکامی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو دشمن کے حملوں سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جاتے ہیں اور اسے کبھی دشمن کے علاقے کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ زمین پر اس طیارے کی تباہی ہماری فورس پروٹیکشن کی کوششوں میں ایک بڑی کوتاہی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس حملے سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ایران کو اہم امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے میں مدد مل رہی ہے، اور غالب امکان ہے کہ روس نے ایران کو سیٹلائٹ تصاویر اور درست جغرافیائی معلومات فراہم کی ہیں۔
اسٹیمسن سینٹر کی فیلو کیلی گریکو کا کہنا ہے کہ ایران بہت سوچ سمجھ کر اہم اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ان ریڈاروں کے پیچھے ہے جو خطرات کا پتہ لگاتے ہیں، ان ٹینکر طیاروں کو نشانہ بنا رہا ہے جو طیاروں کو فضا میں رکھتے ہیں، اور ایواکس طیاروں پر حملے کر رہا ہے جو جنگ کی سمت طے کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی فضائی مہم ہے جو ایران نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق ڈھالی ہے اور اس کے نقصانات حقیقی ہیں۔
واضح رہے کہ ای تھری سینٹری طیارہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اس کی تعداد بھی بہت محدود ہے۔
رواں سال کے آغاز میں امریکی بیڑے میں ان طیاروں کی کل تعداد صرف سترہ تھی، جو بی ٹو بمبار طیاروں سے بھی کم ہے۔
یہ طیارے کافی پرانے ہو چکے ہیں اور ان میں سے پہلا طیارہ 1978 میں فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق آج کے دور میں ایک طیارے کی قیمت تقریباً 540 ملین ڈالر کے برابر ہے۔
اگرچہ امریکی بحریہ ای ٹو ہاک آئی نامی طیارہ بھی استعمال کرتی ہے، لیکن وہ ایواکس کا متبادل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اتنی بلندی پر نہیں اڑ سکتا جہاں سے وسیع علاقے کی نگرانی کی جا سکے۔












پیر 30 مارچ 2026 