برطانوی ناظم الامور کی روسی وزارت خارجہ طلبی، سخت احتجاج ریکارڈ

Calender Icon پیر 30 مارچ 2026

ماسکو: (نیوزڈیسک) روسی وزارت خارجہ نے آج 30 مارچ کو روس میں برطانیہ کی قائم مقام ناظم الامور ڈی ڈولاکیا کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
روسی حکام کے مطابق یہ اقدام اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ برطانوی سفارتخانے کے ایک سفارتی اہلکار نے روس میں داخلے کی اجازت حاصل کرتے وقت اپنے بارے میں جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ اقدام روسی قانون، خصوصاً 1996 کے وفاقی قانون “روسی فیڈریشن سے خروج اور داخلے کے طریقہ کار” کی خلاف ورزی ہے۔

روسی متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد بھی موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اہلکار برطانوی خفیہ اداروں سے وابستہ تھا اور روس میں مبینہ طور پر انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث رہا۔

ان خلاف ورزیوں کے پیش نظر اور 1961 کے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت روس نے اس اہلکار کی منظوری (اکریڈیٹیشن) واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے برطانوی حکام کو آگاہ کر دیا گیا۔

روسی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی بعض برطانوی سفارتکاروں کی جانب سے غلط معلومات فراہم کرنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن پر روس نے سخت ردعمل دیا تھا۔

حکام نے زور دیا کہ برطانوی شہری، خصوصاً سفارتی عملہ، ویزا درخواستوں میں صرف درست معلومات فراہم کریں۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ماسکو اپنی سرزمین پر غیر اعلانیہ برطانوی خفیہ اہلکاروں کی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق سخت مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔

روسی حکام نے متنبہ کیا کہ اگر لندن نے صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کی کوشش کی تو روس فوری اور مناسب ردعمل دے گا۔