اسکرین پر بلا خوف وخطر بلند و بالا عمارتوں سے چھلانگ لگانے اور خطرناک اسٹنٹس کرنے والے بولی وڈ کے ’ایکشن ٹائیگر‘ ٹائیگر شروف حقیقت میں ہوائی جہاز پر سوار ہونے سے پہلے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ٹائیگر شروف نے انکشاف کیا کہ وہ ’ایروفوبیا‘ یعنی جہاز میں سفر کرنے کے خوف کا شکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چند سال قبل ایک پرواز کے دوران شدید ’ٹربولنس‘ (ہوائی جھٹکوں) کا سامنا کرنے کے بعد ان کے دل میں یہ ڈر بیٹھ گیا۔
ٹائیگر کا کہنا ہے کہ، ’یہ بہت عجیب بات ہے کہ آپ مجھ سے دنیا کا مشکل ترین اسٹنٹ کروا لیں، میں بغیر سوچے سمجھ کر لوں گا، لیکن ہوائی جہاز کی ٹربولنس مجھے ہلا دیتی ہے۔ فلائٹ سے 10 دن پہلے ہی میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے اور میرا دماغ مجھ سے مختلف کھیل کھیلنا شروع کر دیتا ہے۔‘
ٹائیگر نے اپنی ذہنی بے چینی پر قابو پانے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے جسمانی مشقت ہی بہترین ’تھراپی‘ ہے۔ وہ اپنی تمام تر پریشانی اور تناؤ کو جم میں پسینہ بہا کر ختم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ، ’میرے لیے ورزش صرف فٹنس نہیں، بلکہ ذہنی تھراپی ہے۔ میں اپنی جذباتی توانائی کو جسمانی حرکت میں ڈالتا ہوں۔ کبھی کبھار میرے ٹرینرز نے مجھے روکنا پڑا کہ میں زیادہ نہ کر دوں، کیونکہ آرام کے بغیر میرا دماغ بے چین ہو جاتا ہے۔‘
اپنی فلمی زندگی پر بات کرتے ہوئے ٹائیگر نے کہا کہ ’اگرچہ آج کل ٹیکنالوجی بہت جدید ہو چکی ہے، لیکن میں اب بھی اپنے اسٹنٹس خود کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اسٹنٹس کرنا وہ لمحہ ہے جب مجھے سب سے زیادہ آزادی محسوس ہوتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وہ جیکی چان کی فلمیں دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کیمرے کے سامنے خطرناک کرتب دکھاتے ہوئے انہیں ذرہ برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوتا۔
ٹائیگر شروف اب اس فضائی خوف پر قابو پانے کے لیے باقاعدہ ’تھراپی‘ لینے پر غور کر رہے ہیں۔ مداحوں کو امید ہے کہ ان کا پسندیدہ ایکشن ہیرو جلد ہی اس نفسیاتی خوف کو بھی اپنے اسٹنٹس کی طرح شکست دے دے گا۔












منگل 31 مارچ 2026 