واشنگٹن(نیوزڈیسک)چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں حالیہ بریفنگ کے دوران ایران کے خلاف جاری فوجی مہم “آپریشن ایپک فیوری” کی پیش رفت اور حکمت عملی سے متعلق اہم تفصیلات شیئر کی ہیں۔
ان کے مطابق 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی اس مہم کے واضح اہداف ہیں، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل نظام اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا، بحری قوت کو غیر مؤثر بنانا اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا شامل ہے۔ جنرل کین کا دعویٰ ہے کہ اب تک کی کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی اور اتحادی افواج نے فضائی برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ ایرانی بحریہ کی بڑی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث اس کی آپریشنل مؤثریت کم ہو چکی ہے۔ اسی طرح میزائل اور ڈرون حملوں کی شدت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو ابتدائی دنوں کے مقابلے میں کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔
جنرل کین نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور اسے ہر صورت کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے اس راستے کو متاثر کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، اس مہم میں امریکا کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور دفاعی کے ساتھ ساتھ دیگر نوعیت کی کارروائیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اتحادی افواج ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں، جن میں دفاعی صنعت اور میزائل سازی سے متعلق تنصیبات سرفہرست ہیں، تاکہ ایران کی مستقبل میں عسکری صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کین نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ امریکی فوج کو وسائل یا اسلحے کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری وسائل دستیاب ہیں اور کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ تنازع اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور امریکی قیادت واضح کر چکی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے طے کردہ اہداف کے حصول تک اس آپریشن کی شدت برقرار رکھی جائے گی۔












منگل 31 مارچ 2026 