واشنگٹن(نیوزدیسک): وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ معاہدے سے متعلق سخت اور واضح مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے جنگی اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور اگر ایران نے صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غلط اندازے سے گریز کیا جائے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ترجمان کے مطابق امریکا ایک طرف دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، اور کچھ سطح پر بالواسطہ رابطے جاری ہیں جن میں پیش رفت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔کیرولین لیوٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر کی جا رہی ہیں، اور “آپریشن ایپک فیوری” اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کو اپنے اہداف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کو 6 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید بھی کی جا چکی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے۔
ایران نے غلط قدم اٹھایا تو سخت ردعمل ہوگا، کیرولین لیوٹ کی وارننگ
منگل 31 مارچ 2026












