واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکا میں 2026 کے صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی تازہ عوامی جائزوں نے سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد وہ اپنے ممکنہ حریفوں کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔
مختلف معتبر اداروں کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی عوامی حمایت میں حالیہ عرصے کے دوران تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی مقبولیت 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ خاص طور پر اہم “سوئنگ اسٹیٹس” میں بھی ان کی پوزیشن مستحکم بتائی جا رہی ہے، جو کسی بھی انتخابی نتیجے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف سخت پالیسی اور جارحانہ مؤقف کو امریکی عوام کے ایک طبقے کی حمایت حاصل ہے، جو اسے طاقتور قیادت کی علامت سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اشاریوں میں بہتری، ٹیکسوں میں کمی اور بیروزگاری میں کمی جیسے دعووں نے بھی ووٹرز کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ مزید برآں، امیگریشن اور قومی سلامتی کے حوالے سے سخت مؤقف نے بھی ان کے حامیوں کو متحرک رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اور بعض مبصرین ان سروے نتائج پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ جائزے مکمل تصویر پیش نہیں کرتے اور ممکن ہے کہ کچھ علاقوں تک محدود ہوں۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ عدالتی مقدمات اور داخلی سیاسی تنازعات انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف اپنی جماعت کے اندر بلکہ عام ووٹرز میں بھی مضبوط حمایت حاصل کر رہے ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ صدارتی انتخابات میں وہ ایک انتہائی طاقتور امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔












منگل 31 مارچ 2026 