اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں ملک کی سیاسی صورتحال اور قانون سازی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم سرفہرست رہی، جہاں بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان کو وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی نئی آئینی ترمیم کے لیے وسیع تر اتفاقِ رائے ناگزیر ہے تاکہ سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ملاقات کے دوران مدارس رجسٹریشن بل بھی زیر بحث آیا، جس پر آصف علی زرداری کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات اور دستخط میں تاخیر پر مولانا فضل الرحمان نے تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو حکومت اور صدر کے سامنے اٹھائیں گے تاکہ قانونی رکاوٹ کو جلد دور کیا جا سکے۔دونوں رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر بھی غور کیا، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر سیاسی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیاسی تقسیم سے نکالنا تمام جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پر بھی بات چیت کی گئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ادھر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پارٹی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مستقبل کے تعاون اور ممکنہ سیاسی حکمتِ عملی پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔ سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو اپوزیشن جماعتوں کے درمیان روابط میں بہتری اور ممکنہ طور پر کسی مشترکہ پلیٹ فارم کی بحالی کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
بلاول بھٹو، فضل الرحمان ملاقات، 27 ویں ترمیم اور سیاسی حکمتِ عملی پر مشاورت
بدھ 1 اپریل 2026












