واشنگٹن:(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 6 اپریل کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر نے واضح عندیہ دیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب صرف چند دن باقی ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے، بصورت دیگر اس کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے بجلی گھروں اور تیل کے ذخائر کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے آپشنز زیر غور ہیں۔
تاہم سخت بیانات کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ تہران کے ساتھ پسِ پردہ رابطوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق امریکی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور ممکنہ آپریشنز کے لیے مختلف عسکری حکمتِ عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ پینٹاگون حکام کی جانب سے صدر کو ممکنہ کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی جا چکی ہے۔
امریکہ نے اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال میں اس کا ساتھ دیں، خاص طور پر خلیج میں اہم بحری راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کیا جائے۔
موجودہ صورتحال میں ایک طرف جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جس کے باعث خطہ غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔












جمعرات 2 اپریل 2026 