نئی دہلی (نیوز ڈیسک)علاقائی صورتحال کے تناظر میں سامنے آنے والی رپورٹس اور بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور سفارتی تناؤ کے بعد بھارت کی جانب سے ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز سے متعلق خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں اور پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد بھارتی قیادت اور میڈیا میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا مہم میں تیزی آئی ہے، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے صورتحال کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رویہ ناگزیر ہے اور کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ وسیع تر علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں بھی ایسے واقعات کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال میں حقائق کی تصدیق اور ذمہ دارانہ طرز عمل انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی ذرائع کو فروغ دینا اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے اور علاقائی استحکام برقرار رہے۔












اتوار 5 اپریل 2026 