امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری پر اقوامِ عالم کی جانب سے اظہارِ تشکر اور بھرپور پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار کو امن کے قیام میں کلیدی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی مؤثر اور نتیجہ خیز سفارتکاری کو سراہا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کی اہم شخصیات کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
چین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر کردار کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے اسے خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ اسی طرح آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹوکر نے کہا کہ شدید بحران اور تباہ کن اثرات رکھنے والی جنگ کو رکوانے پر پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی پاکستان کے بطور ثالث شاندار کردار کو سراہا۔
سعودی عرب نے امن و امان کے قیام کے لیے پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہا، جبکہ جرمنی کے چانسلر فریڈریخ مرز نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی انتھک محنت پر شکریہ ادا کیا۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھرپور کردار کو سراہا۔ یورپی کونسل اور یورپی یونین کمیشن کی صدور نے بھی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
مزید برآں برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین اور جاپان سمیت دیگر ممالک نے بھی مشترکہ بیان میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
اسی طرح قازقستان، ملائیشیا، ناروے، سویڈن، قطر، عمان، پرتگال اور رومانیہ سمیت متعدد ممالک نے پاکستان کی امن کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق شدید جنگی حالات میں امن کا راستہ نکالنا پاکستان کی بہترین سفارتکاری اور مؤثر ملٹری ڈپلومیسی کا واضح ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد بطور ذمہ دار ریاست پاکستان کے وقار اور اعتماد میں عالمی سطح پر نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و امان کے قیام میں سنجیدہ اور فعال کردار ادا کیا ہے۔












جمعرات 9 اپریل 2026 