بھارت کے شہر بنگلور میں ایک شہری نے کیب کرائے میں مبینہ فراڈ کا انکشاف کیا ہے، جس میں ایک جعلی ایپ(fake app) کے ذریعے کرایہ بڑھانے کا الزام سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں صارف انول اگروال نے بتایا کہ انہوں نے وائیٹ فیلڈ سے ایئرپورٹ تک ریپڈو کی بائیک ٹیکسی بک کی تھی، جس کا ابتدائی کرایہ 684 روپے دکھایا گیا تھا، تاہم سفر کے اختتام پر یہ رقم بڑھ کر 1084 روپے ہو گئی۔
صارف کے مطابق جب انہوں نے ڈرائیور سے اضافی رقم کے بارے میں سوال کیا تو ڈرائیور نے مؤقف اختیار کیا کہ اس میں پارکنگ اور ٹول ٹیکس شامل ہیں، تاہم مسافر نے کہا کہ ان کی ایپ میں سفر ابھی جاری ہی دکھائی دے رہا تھا اور کرایہ خودکار طور پر بند نہیں ہوا تھا۔
انول اگروال نے دعویٰ کیا کہ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ڈرائیور ایک جعلی ایپ ‘ٹاؤنر’ استعمال کر رہا تھا، جو ریپڈو کی اصل ایپ جیسی نظر آتی ہے اور اس میں کرایہ دستی طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
صورتحال بگڑنے پر ڈرائیور نے مبینہ طور پر بدتمیزی کی، جس کے بعد مسافر نے اصل ایپ کے مطابق کرایہ اور اضافی رقم ادا کی اور کہا کہ وہ صورتحال سے بچنے کے لیے فوری طور پر وہاں سے چلے گئے۔
بعد ازاں ریپڈو انتظامیہ نے متاثرہ صارف سے رابطہ کیا اور اضافی رقم واپس کر دی جبکہ ڈرائیور کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
مزیدپڑھیں:ٹیکنالوجی کا بھیانک رخ، چین میں 100 روبو ٹیکسیز ایک ساتھ بند، مسافر محصور
سوشل میڈیا پر یہ واقعہ وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ افراد نے کہا کہ ایسے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جبکہ بعض نے تجویز دی کہ ادائیگی کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے تصدیقی طریقہ کار متعارف کرایا جانا چاہیے۔
صارف نے اپنے پیغام میں لوگوں کو احتیاط کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ صرف اپنی ایپ میں دکھائی جانے والی اصل رقم ہی ادا کریں۔












اتوار 12 اپریل 2026 