وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے راولپنڈی میں اپ گریڈڈ سفاری ٹرین (train)کا افتتاح کردیا، ریلوے اصلاحات، سیاحتی سہولیات کے فروغ اور خطے میں پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار پر زور۔
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے آج راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر سفاری ٹرین کے اپ گریڈڈ ریک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سفاری ٹرین کو جدید سہولیات سے آراستہ کر دیا گیا ہے، جس میں ایئر کنڈیشنڈ کوچز، نئی اور آرام دہ نشستیں، اور فیملیز کے لیے بہتر اور محفوظ ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
سفاری ٹرین کو باقاعدہ تفریحی ٹورازم ماڈل میں تبدیل کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف اسٹیشنز پر مختصر قیام اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جبکہ اٹک خورد جیسے سیاحتی مقامات پر طویل قیام اور لنچ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔وزیر ریلوے نے بتایا کہ سفاری ٹرین کی اوکیوپینسی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عوامی اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے افسران کو فیلڈ میں متحرک کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں، جبکہ ریلوے مزدور مشکل حالات کے باوجود خدمات انجام دے رہے ہیں اور نظام کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ا
نہوں نے کراچی تا روہڑی ٹریک کی خستہ حالت کے باوجود ٹرین آپریشن جاری رکھنے پر عملے کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ریلوے کے مکینیکل، بریک اور لوکوموٹیو سسٹمز میں بہتری کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ لوکوموٹیوز کی طویل عرصے سے عدم مینٹیننس کے مسائل کے حل کے لیے نیا نظام متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے اپ گریڈیشن پروگرام کو دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا آغاز متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے پر پیش رفت جاری ہے، اور لاہور تا کراچی سفر کے دورانیے میں پانچ گھنٹے کمی لانے کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں:گزشتہ دو جنگوں کے باعث امریکا پر اعتماد نہیں، ایران
انہوں نے کہا کہ لاہور ڈویژن میں ٹریک اپ گریڈیشن منصوبہ تقریباً 250 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے، جبکہ پنجاب حکومت کے تعاون سے نو مختلف روٹس پر ڈی ایم یو ٹرینز چلانے کا منصوبہ بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے ساتھ شراکت داری اور جوائنٹ وینچر ماڈل کے تحت ریلوے کے منصوبوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔انہوں نے مریم نواز کی قیادت میں ریلوے منصوبوں میں تیزی اور عملی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے تعاون سے روہڑی جنکشن کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اس تاریخی جنکشن کو ڈیڑھ صدی بعد جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریٹ اور کارگو سیکٹر کی بحالی کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد ٹاکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے اور رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے دونوں فریقین نے سراہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کو علاقائی امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، اور پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری کو ایک مثبت اور غیر جانبدار سفارتی کردار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن کے قیام کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔












اتوار 12 اپریل 2026 