پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ایک اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را (raw)کے لیے مبینہ جاسوسی میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن کا تعلق نارووال، بہاولپور اور آزاد کشمیر کے ضلع نیلم سے بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل متحرک ہیں، اور اسی سلسلے میں یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا کہ انہیں سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے خواتین اور مالی فوائد کا جھانسا دے کر حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے پر آمادہ کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان کو رقوم ایزی پیسہ، کرپٹو والٹس اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی جاتی رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان بھارتی ایجنسی سے منسلک افراد، خصوصاً خواتین، کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں سزائیں بھی سنا دی گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:پوپ لیو جرم کے معاملے میں کمزور، خارجہ پالیسی کے معاملے میں خوفناک ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دفاعی ماہرین نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ بھارت معصوم شہریوں کو مالی لالچ اور ہنی ٹریپ جیسے حربوں کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی بھارتی اہلکاروں کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی اور حساس معلومات کے حصول کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک رابطے یا سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں، تاکہ قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔












پیر 13 اپریل 2026 