امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایران کے بندرگاہوں اور بحری راستوں کی ناکہ بندی کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز آج سے ہوجائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس اور برطانیہ آئندہ دنوں میں ایک کانفرنس منعقد کریں گے۔
جس میں اُن ممالک کو مدعو کیا جائے گا جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک خالصتاً دفاعی اور پُر امن مشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ اقدام ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے دوران پاکستان کی ہوابازی کے شعبے میں شاندار کردار
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پائیدار اور مضبوط حل تک جلد از جلد سفارتی ذرائع سے پہنچنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے۔
انھوں نے خطے کے مسائل بالخصوص ایران کے جوہری اور بیلسٹک پروگرامز، آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی بحالی اور لبنان میں اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام کے ساتھ دوبارہ امن کے فی الفور حل پر زور دیا۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ یہ ایسا حل ہونا چاہیئے جو خطے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے اور تمام بنیادی مسائل کا دیرپا حل ہو تاکہ خطے کے ممالک امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
انھوں نے پیشکش کی کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا مکمل کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے جیسا کہ وہ جنگ کے آغاز کے پہلے دن سے مسلسل کوشش کرتا آیا ہے۔
ایمانوئیل میکروں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے آئندہ دنوں میں ہم برطانیہ کے ساتھ مل کر اُن ممالک کی کانفرنس منعقد کریں گے جو ہمارے ساتھ ایک پرامن کثیرالقومی مشن میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔
فرانسیسی صدر کے بقول اس کا مقصد آبنائے میں بحری آمدورفت کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا مشن ہوگا جو تنازع کے فریقین سے الگ ہوگا اور حالات سازگار ہوتے ہی اسے جلد تعینات کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کھولنے کیلیے دوست ممالک پر مشتمل عالمی دفاعی مشن کا قیام ضروری ہوگیا؛ فرانس
پیر 13 اپریل 2026












