کوئٹہ میں ایک سنسنی خیز واقعے میں پاکستان کسٹمز (Pakistan Customs) نے اپنے ہی دو پریونٹیو افسران کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر قیمتی چاندی میں خرد برد کا سنگین الزام ہے۔
13 اپریل 2026 کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، افسران عارف علی جمانی اور سمیع اللہ اچکزئی کو اس شبہے میں حراست میں لیا گیا کہ انہوں نے ملی بھگت سے چاندی کے بسکٹوں کو سیسے سے تبدیل کیا۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 5 اپریل کو ضبط شدہ 688 کلوگرام چاندی کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت پاکستان منٹ لاہور منتقل کرنے کے لیے ایک ٹیم مقرر کی گئی۔ اس ذمہ داری کے لیے انہی دونوں افسران کو چنا گیا، جنہوں نے کوئٹہ کے اسٹیٹ ویئرہاؤس سے 36 سیل بند ڈبوں میں موجود چاندی اپنی تحویل میں لی۔ یہ سامان کوئٹہ
مزید پڑھیں:لاہور: قلعہ گجر سنگھ کے علاقے سے لیڈی کانسٹیبل کا اغوا
انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے پی آئی اے کی پرواز سے لاہور بھیجا گیا اور بعد ازاں پاکستان منٹ پہنچا دیا گیا۔
تاہم، جب منٹ میں ڈبوں کو کھولا گیا اور باریک بینی سے جانچ کی گئی تو ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا—688 کلوگرام میں سے تقریباً 400 کلوگرام چاندی دراصل چاندی نہیں بلکہ سیسے پر مشتمل تھی۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کسٹمز انفورسمنٹ کلکٹریٹ کوئٹہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج نے معاملے کو مزید واضح کر دیا، جس سے پتا چلا کہ راستے میں مبینہ طور پر اصل چاندی والی گاڑی کو دوسری گاڑی سے تبدیل کیا گیا، جس میں اسی وزن کے سیسے کے بسکٹ رکھے گئے تھے۔
ان شواہد کی بنیاد پر دونوں افسران کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس میں مزید افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔












پیر 13 اپریل 2026 