خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی، بھارت کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری پر سوال

Calender Icon اتوار 19 اپریل 2026

خلیجی کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ پاکستان اپنی متوازن حکمت عملی اور مؤثر سفارتکاری کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

بین الاقوامی جریدہ ایشیا ٹائمز (asia times)کے مطابق ایران کے معاملے پر بھارت کی غیر واضح پالیسی کو سخت تنقید کا سامنا ہے، جبکہ خطے میں بدلتی صورتحال نے اس کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بھارت کی سفارتکاری اس دوران غیر مؤثر اور خاموش دکھائی دی۔

نریندر مودی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو بھی زیادہ تر تیل اور سپلائی کے امور تک محدود رہی، جسے ماہرین نے محدود سفارتی حکمت عملی قرار دیا۔
مزیدپڑھیں:ایران کی صورتحال:واشنگٹن میں اہم اجلاس، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو،امریکی میڈیا

اسی طرح بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی مؤثر سفارتی مداخلت کے بجائے صرف رابطوں اور یقین دہانیوں تک محدود رہا۔

ایشیا ٹائمز کے مطابق چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی شراکت داری نے خطے میں بھارت کی اہمیت کو متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے بعد امریکہ کے لیے بھارت پر انحصار کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش میں بھارت کو خود سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں امن اور استحکام کی جیت دراصل پورے خطے کی جیت ہے، اور اسی سوچ کے تحت پاکستان اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔