بندر امام پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کے دوران ملازمین کی ڈیوٹی جاری، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

Calender Icon ہفتہ 2 مئی 2026

Iran میں واقع بندر امام پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر بمباری کے دوران ملازمین کے حوصلے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جہاں متعدد کارکن آخری لمحوں تک اپنی ڈیوٹی پر موجود رہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حال ہی میں جاری ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید فضائی حملوں کے باوجود کارکن پلانٹ کے اہم حصوں کو سنبھالنے اور ممکنہ نقصان کم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ خطرناک صورتحال کے باوجود انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ترک نہیں کیں۔

یہ حملہ 4 اپریل کو مبینہ طور پر United States اور Israel کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں کمپلیکس کے اندر موجود اہم صنعتی یونٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران کے اس بڑے پیٹروکیمیکل مرکز کی پیداوار مکمل طور پر معطل ہو گئی تھی۔ دو اہم یوٹیلٹی پلانٹس کو نقصان پہنچا، جو کمپلیکس کی درجنوں فیکٹریوں کو گیس، بجلی اور صنعتی پانی فراہم کرتے تھے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت، کم از کم 10 افراد ہلاکمزید پڑھیں؛

یہ صنعتی مرکز Mahshahr اور بندر امام خمینی کے قریب واقع ہے اور اسے ایران کے اہم ترین پیٹروکیمیکل مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں بڑی مقدار میں کیمیکل، پلاسٹک، پولیمر، کھاد اور دیگر صنعتی مواد تیار کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق اس کمپلیکس سے تقریباً 72 ملین ٹن سالانہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے، جبکہ یہ خطے میں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔

فوٹیج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کارکنوں کے جذبے اور فرض شناسی کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔