اسلام اباد (نمائندہ خصوصی )اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں ہیلتھ انڈسٹری ایڈوانسمنٹ کمیٹی قائم، یاسر نیازی چیئرمین (chairman yasir niazi)مقرر۔صحت کو باقاعدہ معاشی صنعت بنانے کی سمت اہم پیش رفت، قیادت یاسر خان نیازی کے سپرد۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے صحت کے شعبے کو قومی معیشت کا مضبوط ستون بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے “اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ انڈسٹری ایڈوانسمنٹ” قائم کر دی ہے اور معروف ہیلتھ کیئر اسٹریٹجسٹ اور جی۔اے۔کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے گروپ سی ای او یاسر خان نیازی کو اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ صحت کو محض ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ، منظم معاشی شعبے کے طور پر دیکھا جائے جو تجارت، برآمدات، زرِمبادلہ، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے یاسر نیازی کو ان کی تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے معاشی پہلوؤں پر ان کی گہری سمجھ اور قیادت کی صلاحیت انہیں قومی سطح پر اس تبدیلی کی رہنمائی کے لیے موزوں بناتی ہے۔
عالمی سطح پر صحت سے وابستہ صنعتوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ ورلڈ بینک اور گلوبل ہیلتھ ایکسپنڈیچر ڈیٹا بیس کے اندازوں کے مطابق 25-2024 میں عالمی ہیلتھ اکانومی کا حجم تقریباً 9 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں طبی خدمات، ادویات سازی، میڈیکل ڈیوائسز، ڈیجیٹل ہیلتھ اور ہیلتھ فنانسنگ شامل ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کا صحت کا شعبہ اگرچہ ابھی مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں، لیکن آبادی کی صلاحیت، خطے میں جغرافیائی اہمیت اور تیزی سے ابھرتے ڈیجیٹل نظام کی وجہ سے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔چیئرمین کا عہدہ سنبھالتے ہوئے یاسر نیازی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے کو بکھرے ہوئے اداروں کے مجموعے کے بجائے ایک مربوط معاشی ایکو سسٹم کے طور پر منظم کیا جائے۔
اس فریم ورک میں طبی تعلیم و تربیت، کلینیکل کیئر سسٹمز، ادویات کی تیاری و ترسیل، ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام، ہیلتھ ریٹیل سپلائی چین اور مربوط مالیاتی ڈھانچے کو ایک لڑی میں پرویا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کی بڑھتی ہوئی برآمدی صلاحیت ٹیلی میڈیسن، ہسپتال انفارمیشن سسٹمز، اے آئی پر مبنی تشخیص اور ڈیٹا سے چلنے والے طبی ماڈلز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، جو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق صرف فارماسیوٹیکل سیکٹر سالانہ تقریباً 1.6 کھرب امریکی ڈالر کی صنعت بن چکا ہے، جبکہ میڈیکل ٹورزم مارکیٹ 2025 میں 172 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور 2034 تک اس کے 770 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یاسر نیازی کے مطابق یہ رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں سرحد پار طبی خدمات کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور وہ ممالک جو معیاری اور کم خرچ علاج کے ساتھ ادارہ جاتی اعتماد فراہم کرتے ہیں، عالمی سطح پر ترجیحی مراکز بنتے جا رہے ہیں۔
سردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کے طور پر منظم کرنے سے اداروں کے درمیان بہتر ربط پیدا ہوگا، معیار بندی کو فروغ ملے گا اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان طویل المدتی پالیسی ہم آہنگی ممکن ہو سکے گی۔
جس سے چیمبر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ معاشی شعبوں کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔کمیٹی کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز عمران علی غوری نے بتایا کہ اس اسٹینڈنگ کمیٹی کے لئے اعلی سطحی پینل تشکیل دیا جا رہا ہے، جس میں طبی خدمات، میڈیکل ایجوکیشن، فارماسیوٹیکل، لاجسٹکس، ڈیجیٹل ہیلتھ، ٹیکنالوجی، فنانس اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے وابستہ ماہرین شامل ہوں گے تاکہ عالمی معیار کے مطابق ایک مربوط اور نفع بخش فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
عمران غوری نے بتایا کہ مجموعی طور پر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ انڈسٹری ایڈوانسمنٹ کا قیام اس سوچ کا مظہر ہے کہ صحت کا شعبہ مستقبل میں زرِمبادلہ کمانے، ہنر مند روزگار پیدا کرنے، سرمایہ کاری لانے اور میڈیکل و ڈیجیٹل ہیلتھ جدت کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:افریقہ، فوجی مشقیں، 2 امریکی فوجی اہلکار لاپتہ، سرچ آپریشن شروع
سب سے بڑھ کر یہ اقدام پاکستان کے صحت کے نظام کو عالمی ویلیو چین سے جوڑنے کی ایک منظم کوشش ہے، جس میں یاسر نیازی کی قیادت کلیدی کردار ادا کرے گی۔یہ پیش رفت صحت کو محدود فلاحی دائرے سے نکال کر ایک قابلِ توسیع، سرمایہ کاری کے لیے تیار اور عالمی سطح پر مربوط صنعت کے طور پر پیش کرنے کی عملی شروعات ہے۔












اتوار 3 مئی 2026 