ترجمان پاسدارن انقلاب(IRGC) نے امریکا کی جانب سے ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی اور کہا کہ یو اے ای پر حملے جوابی ردعمل تھا۔
ایرانی میڈیا نے پاسدارن انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے لکھا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد دعوے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے کسی بھی جنگی جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اس خبر کی نوعیت جانچنے کے لیے مقامی ذرائع سے تحقیقات کی گئیں۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی افواج نے عمان کے ساحل سے ایران کے ساحلوں کی جانب جانے والی عوامی سامان بردار دو چھوٹی کشتیوں پر حملہ اور فائرنگ کی اور انہیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان میں سوار پانچ عام شہری شہید ہو گئے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات چھوٹی فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، ان کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔
مزیدپڑھیں:ذاتی باتیں اپنے شوہروں کے ساتھ شیئر نہ کریں: فضیلہ قاضی
ترجمان پاسدارن انقلاب کے مطابق فجیرہ میں تیل تنصیبات پر حملے کا کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا، فجیرہ بندرگاہ پر جو کچھ ہوا وہ امریکی فوج کی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔
ترجمان کے مطابق یو اے ای ایران پر حالیہ حملوں میں ملوث ہے، متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی جوابی ردعمل تھا، مزید حملے ہوئے تو ایران اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔












منگل 5 مئی 2026 