چین میں آتش بازی (Fireworks)کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 21 افراد ہلاک اور 61 زخمی ہو گئے ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق دھماکہ صوبہ ہونان کے علاقے لیویانگ میں قائم فیکٹری میں شام کو ہوا، اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنا شروع ہوئیں جن میں پہاڑوں میں گھرے ایک دیہی علاقے میں ایک مقام سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں اور مسلسل دھماکے ہوتے ہیں۔
اسی طرح ڈرون کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز میں اس مقام پر ملبے کے ایک بہت بڑے ڈھیر کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں چند گھنٹے قبل فیکٹری کی عمارت موجود تھی اور امدادی کارکن ملبے کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بعض قریبی عمارتوں کی چھتیں اڑ گئیں اور آتشی مواد گرنے دوسری عمارتوں میں بھی آگ لگی، جس پر قابو پا لیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ریسکیو کی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے ماہرین کو بھی اس علاقے کی طرف بھجوا دیا گیا ہے جبکہ 480 سے زائد امدادی کارکن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے متاثرہ فیکٹری کے اردگرد تین کلومیٹر تک کنٹرول زون قائم کر دیا گیا ہے اور وہاں سے عام لوگوں کو نکال دیا گیا ہے۔
پولیس نے کمپنی کے انتظامی حکام میں سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش اور واقعے کے ذمہ داروں سے جواب طلبی کے لیے ہرممکن کوشش پر زور دیا ہے۔
خیال رہے کہ لیویانگ چین میں آتش بازی کے سامان کی تیاری کا ایک بڑا مرکز ہے جو چین میں فروخت ہونے والے سامان کا 60 فیصد تیار کرتا ہے اور 70 فیصد تک برآمد کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:لاہور: شاہ عالم مارکیٹ کے پلازے میں آگ لگ گئی
پچھلے برس ہنان کی ایک آتش بازی کی فیکٹری میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2023 میں شمالی شہر تیانجن میں ایک رہائشی عمارت میں دھماکے ہوئے تھے جس سے تین افرد ہلاک ہوئے، اسی طرح فروری میں صوبہ جیانگ سو اور ہوبی کے علاقوں میں آتش بازی کی دکانوں میں دو الگ الگ دھماکے ہوئے تھے جن میں سے ایک میں 12 اور دوسرے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔












منگل 5 مئی 2026 