جنیوا: عالمی ادارہ صحت (world health organization) نے ہنٹا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر دنیا کے 12 ممالک کے لیے الرٹ جاری کر دیا۔ جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہنٹا وائرس کے کیسز ایک کروز شپ سے منسلک پائے گئے۔ جہاں سے کچھ مسافر علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی مختلف ممالک روانہ ہو چکے تھے، جس کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق 5 کیسز ہنٹا وائرس کے تصدیق شدہ ہیں جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد میں شدید سانس کی بیماری کی علامات رپورٹ ہوئیں۔ متاثرہ ممالک میں ترکیہ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ اور امریکا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مسافروں اور ان کے قریبی رابطوں کی نگرانی جاری ہے اور مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ موجود ہے۔
ہنٹا وائرس ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً چوہوں اور دیگر چوہا نما جانوروں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس آلودہ ذرات کے ذریعے سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہوتا ہے۔
اس کی علامات میں تیز بخار، شدید تھکن، پٹھوں میں درد، سر درد، متلی، کھانسی اور بعض کیسز میں سانس لینے میں دشواری شامل ہیں، جو سنگین صورت میں پھیپھڑوں کی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ کا آفیشل ترانہ جاری؛ شکیرا اور برنا بوائے نے دھوم مچا دی
ماہرین کے مطابق اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں، تاہم بروقت طبی امداد سے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر میں صفائی کا خاص خیال رکھنا، چوہوں سے بچاؤ اور آلودہ جگہوں کی صفائی کے دوران حفاظتی اقدامات اختیار کرنا شامل ہیں۔












جمعہ 8 مئی 2026 